دو کسان بھائی جڑواں کھیتوں میں رہتے اور کام کرتے تھے۔ وہ کاشتکاری اکٹھے کیا کرتے تھے۔ کام کے دوران وہ ایک دوسرے سے مشینری، مزدور اور دیگر اشیاء کا بلاروک ٹوک لین دین کرتے رہتے ۔ایک روزان کے درمیان پہلی مرتبہ تنازعہ پیدا ہوگیاجس کی وجہ سے بالآخر اس طویل شراکت داری کا اختتام ہوگیا۔جھگڑا ایک معمولی غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہوا
جو بعد میں بڑے تنازعے کا باعث بنا۔دونوں بھائیوں کے درمیان کئی تلخ کلمات کا تبادلہ ہوا جس کے بعد دونوں بھائیوں کے مابین کئی ہفتوں کی خاموشی چھا گئی۔چھوٹے بھائی نے درمیان میں موجود چراگاہ کو ندی میں تبدیل کر ڈالا۔بڑے بھائی سے بھی رہانہ گیا۔
ایک دن بڑے بھائی نے ایک ترکھان کو ندی کے ایک طرف باڑ لگانے کا کہا۔ترکھان کو باڑ کا کہہ کر بڑابھائی کسی کام کے سلسلے میں شہر چلا گیا۔ ترکھان پورا دن بھرپور محنت اور توجہ سے کام کرتا رہا۔ جب شام کے وقت کسان واپس لوٹا تو ترکھان اپنا کام مکمل کر چکا تھا۔ کسان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جب اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی باڑ موجود نہ تھی بلکہ صرف ایک پل تھا جو ندی کے اوپر سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جارہاتھا۔ پل پر کام بہت مہارت اور خوبصورتی سے کیا گیا تھا۔ کسان کا چھوٹا بھائی پل پر مخالف سمت سے اپنے ہاتھ پھیلائے آتا ہوا دکھائی دیا۔اس نے کہا کہ تم نے یہ پل بنا کر کیا خوب کام کیا۔دونون بھائی پل کے درمیان آمنے سامنے آئے، رک کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور گلے لگ گئے۔ ترکھان یہ منظر دیکھ کر خوش ہوا اور اپنا سامان اٹھائے واپس ہو لیا۔ جب دونوں بھائیوں نے ترکھان کو جاتے دیکھا تو اسے روکا اوربڑے بھائی نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ دن رک جاؤ میرے پاس تمہارے لئے بہت سا کام ہے۔ترکھان نے کہا کہ مجھے یہاں رہنے میں بے حدخوشی ہوتی لیکن ابھی مجھے کئی اورایسے پل بنانے ہیں۔۔۔۔


Post A Comment:
0 comments so far,add yours